بنگلہ دیش میں پاکستان کے بے لوث سپاہی

بنگلہ دیش میں پاکستان کے بے لوث سپاہی

شکیل احمد ترابی

اپنوں کی ہوس اقتدار اور دشمن کی سازشوں نے پاکستان توڑ دیا۔ جماعت اسلامی اور اسلامی چھاتروشبر نے پاکستان کو متحد رکھنے کے لیے دس ہزار جانوں کی قربانی ،قیدو بند کی صعوبتوں اور کروڑوں کی املاک قربان کردیں۔
پاکستانی، پاکستان کو اپنے ہاتھوں آگ میں بھسم کررہے ہیں جبکہ بنگلہ دیشی جماعت اسلامی کے سپاہی آج بھی پاکستان کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
اپنے مُلک پاکستان کو متحد رکھنے کا عظیم فریضہ جماعت اسلامی کا جُرم بن چکا ہے۔جماعت اسلامی بنگلہ دیش میں زیر عتاب ہے۔ سابق امیر پروفیسر غلام اعظم ، موجود ہ امیر مطیع الرحمان نظامی سمیت اُس کے چوٹی کے آٹھ راہنمائوں کو ’’ جنگی جرائم ٹریبونل ‘‘ کا سامنا ہے۔ دو رہنمائوں دلاور حسین سیدی ، مولانا ابوالکلام آزاد کو موت کی سزا اور عبدالقادر مُلا کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے ۔ بنگلہ دیشی پارلیمان گزشتہ ماہ آئین میں ایک ترمیم عمل میں لا چکی ہے جس کے تحت جماعت اسلامی پر 1971 ء کی ’’ جنگ آزادی‘‘ کی مخالفت کے ارتکاب پر پابندی عاید کی جاسکے گی۔
جمعرات کو ڈھاکہ میں ’’ جنگی جرائم کے ٹریبونل ‘‘ نے جماعت اسلامی کے سینئر ترین راہنما دلاور حسین سیدی کو سزا موت سنائی تو پورے بنگلہ دیش میں ہنگامے پھوٹ پڑے ۔ جماعت اسلامی نے دو روزہ ہڑتال کی اپیل کی تھی جبکہ خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے بھی ہڑتال کی حمایت کی تھی۔ پُرامن مظاہرین کو کچلنے کے لیے بنگلہ دیشی سرکار نے مظالم کے پہاڑ توڑ دئیے اور اب تک اسی کے قریب افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
پاکستان کو متحد رکھنا جماعت اسلامی کاجُرم ٹھہرا مگر مسلم لیگ کے رہنما اشرف علی خندکر جن کا بیٹا ڈاکٹر خندکر مُشرف حسین 1971 ء میں مسلم ہال سٹوڈنٹس یونین کا راہنما تھا۔ مشرف حسین بھی پاکستان کو متحد رکھنے کی جدوجہد میں شامل تھا۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی بیٹی صائمہ واجد کی شادی وزیر لیبرو اوورسیز انجنیئر ڈاکٹر خندکر مشرف حسین کے بیٹے مسرور حسین مٹھو سے سرانجام پائی تھی جو کے امریکہ میں مقیم ہیں۔ ’’حسینہ ‘‘ تیرے قانون میں پاکستان کو متحد رکھنا جرم تھا جس کی پاداش میں جماعت اسلامی کی قیادت پھانسیوں کی منتظر ہے تو مشرف حسین کو سزائے موت کی بجائے وزیر کیوں بنایاگیا۔؟
جماعت اسلامی کی قیادت کاقصور یہ ہے کہ وہ ایک اُمت کا تصورپیش کرتی ، نیل سے لے کر تابخاک کاشغر مُسلمانوں کو اکٹھا دیکھنا چاہتی ہے ۔ اس نظریہ ٔ نے یہود وہنود کو بے چین کر رکھا ہے ، پاکستان اس نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا تھا ۔ امن وجمہوریت کے نام نہاد بھارتی دیوتائوں کی افواج کی مداخلت نے پاکستان توڑ دیا ۔ بچا کھچا پاکستان بھی بھارتی نیتائوں کی بے چینی کا باعث ہے ۔ بھارت نے 71 ء ہی میں مداخلت نہ کی تھی بلکہ بیالیس سال سے ایک جانب بقیہ پاکستان کو توڑنے کی سازشیں جاری ہیں جبکہ دوسری جانب بنگلہ دیش میں بھی عالمی قوتوں کی اشیر آباد سے پاکستان کی حامی قوتوں کو کمزور کرنے کے تانے بانے بنے جا رہے ہیں ۔ خالدہ ضیاء کی قیادت میں قائم گرینڈ الائنس سے متعلق انتخابی سرویز میںکہا جا رہا تھا کہ وہ ستر فی صد سے زائد نشستیں حاصل کرے گا ، مگر عالمی استعمار کی کوششوں کے نتیجے میں انتخابات کو التواء میں ڈال کر بدترین دھاندلی کے ذریعے حسینہ واجد کی پارٹی کو اقتدار بخشا گیا ۔ جماعت اسلامی کا کوئی ترجمان ہفت روزہ یا روزنامہ نہیں بھارت کے سب سے بڑے روزنامہ ’’ ٹائمز آف انڈیا ‘‘ کی 26 فروری ، منگل کو شائع ہونے والی خبر میرے سامنے موجود ہے ۔ خبر کے مطابق ’’ بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے راہنما عبدالقادر مُلا کو عمر قید کی بجائے پھانسی کی سزا کے لیے ڈھاکہ میں مظاہروں کو بھارت کی بھرپور حمایت حاصل تھی ۔‘‘ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی قومی سلامتی کے مشیر شیو شینکر مینن نے مظاہروں کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ مظاہرے بنگلہ دیشی نوجوانوں کی ذہنی کشادگی کا اظہار ہیں جو انتہا پسندی کے خلاف اور جمہوری اقدار کی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں۔‘‘ جنگی مجرموں اور انتہا پسندوں کے خلاف شاہ باغ ڈھاکہ میںمظاہرے بنگلہ دیشی نوجوانوں کی سوچ کی طاقت اور سیاسی بلوغت کوظاہر کرتے ہیں۔ ‘‘
بھارتی اخبار کے مطابق ہندوستانی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بھی اپنے حالیہ دورہ ڈھاکہ کے دوران شاہ باغ مظاہروں کی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ مجھے بہت خوشی ہے اور میں بنگلہ دیشی نوجوانوں کی حمایت کرتا ہوں جو کہ جمہوری عمل میں شریک ہیں‘‘
بھارت کی مداخلت کا جہاں ایک سبب پاکستان کو ناپائیدار دیکھنا ہے ‘ بنگلہ دیش وپاکستان کی قربت اُسے ہرگز عزیز نہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کی سات ریاستیں جن میں آسام ، ناگالینڈ ، تری پورہ ، میگالیہ ، منی پور، میزورام اور اُرنچل پردیش شامل ہیں۔ انہیں ’’ سیون سسٹرز‘‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے ۔ سیون سسٹرز تک بھارت کی براہ راست رسائی انتہائی مشکل ہے ۔ دشوار گزار راستوں سے گزر کر وہاں پہنچا جاتا ہے۔ مگر کلکتہ سے براستہ بنگلہ دیش سیون سسٹرز تک پہنچنا انتہائی سہل ہے ۔
اسی روٹ کے استعمال سے بھارت کو کھربوں روپے کی سالانہ بچت ہے ۔ اپنی معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے ہندوستان کو بنگلہ دیش میں پاکستان کے ’’خیر خواہوں کی حکومت‘‘ ناقابل برداشت ہے۔ اپنے مفادات کے لیے بھارت بنگلہ دیش میں ’’ کُھل کھیل ‘‘ رہا ہے ۔ بھارتی صدر پرناب مکھر جی اتوار کو ڈھاکہ پہنچے ، ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق بھارتی صدر کا ’’ سرخ قالین ‘‘ استقبال جماعت اسلامی کے مظاہروں کے پیش نظر ترک کرکے سخت حفاظتی انتظامات میں ائیر پورٹ سے لے جایا گیا ۔بھارتی صدر منتخب ہونے کے سات ماہ بعدپرناب مکھر جی کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے ۔
بنگلہ دیش کی ’’ آزادی میں مدد‘‘ پر بھارتی صدر کو بنگلہ دیش کے ہم منصب محمد ظل الرحمان نے اپنے ملک کا سب سے بڑا قومی ایوارڈ بھی پیش کیا ہے۔
ڈھاکہ یونیورسٹی کے سپیشل کانووکیشن میں بھارتی صدر کو ’’ ڈاکٹریٹ ان لاء ‘‘ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا گیاہے ۔ بھارتی صدر کے لیے اعزازات ، بھارتی وزیر خارجہ و قومی سلامتی کے وزیر کے بیانات کے ساتھ ساتھ قارئین کو اس بات سے بھی آگاہ کرتا چلوں کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے راہنما جناب مطیع الرحمان نظامی کے خلاف ’’ بھارتی شہری شکتی شاہا ‘‘ ڈھاکہ میں جنگی جرائم کے خلاف قائم ٹریبونل میں پیش ہوا اور نام نہاد ثبوت پیش کیے۔ جماعت اسلامی کی قیادت کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی بندش کے لیے ترکی کے صدر جناب عبداللہ گل نے بنگلہ دیشی صدر کو خط بھی لکھا تھا اور ترکی کی وزارت خارجہ نے بنگلہ دیش کے سفیر ذوالفقار الرحمان کو طلب کرکے شدید احتجاج بھی کیا تھا۔ بنگلہ دیش میں پاکستان کے ’’ بے لوث سپاہیوں ‘‘ پر ظلم کے پہاڑ توڑے جار ہے ہیں۔ جماعت اسلامی کی ضعیف و پیرانہ سال قیادت تک جیلوں میں بند ہے ۔ عمر قید و موت کی سزائیں ‘ مظاہرین کو شہید کیا جا رہا ہے اور اندھیر نگری چوپٹ راج پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے منہ پر تالے پڑے ہیں۔درحقیقت اُن کے منہ پر تو تالے ہی ہونے چاہئیے کیونکہ اُن کی مالی مدد ’’ کسی حق پرست‘‘ کے لیے تو نہیں کی جاتی ۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں تو باندیاں ہیں عالمی استعمار کی ۔ جس پاکستان کے لیے جماعت اسلامی نے ہماری سپاہ کے شانہ بشانہ بلکہ ان سے بڑھ کر قربانیاں دی تھیں۔اُس پاکستان کی قیادت کہاں ہے ؟ کوئٹہ لہولہان ہے ۔ کراچی اور پشاور کو تو خاموش ہی رہنا چاہیئے کے جناب الطاف حسین اور سرحدی گاندھی کی اولادیں تو پاکستان سے زیادہ ’’ باہر والوں ‘‘ کی یارو مدد گار ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام آباد اور لاہور کیوں خاموش ہے ‘ اُن کی زباں بندی کس نے کردی ؟
جنرل جہانگیر کرامت تو امریکی تنخواہ پر بھارت سمیت دُنیا بھر میں گھوم پھر کر ’’لیکچرز ‘‘دینے میں مصروف ہیں ۔ ’’ نیازی ‘‘ بھی مرچکا ۔ میرے غیرت مند حمید گل ، اسلم بیگ ، عمران اللہ نیازی ، علی قلی خان ، احسان الحق اور ’’ ایکس سروس مین ‘‘ کیوں خاموش ہے ۔ اس نازک معاملے میں اُن کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی ؟ اور پاکستان سے ٹیکسٹائل کاکاروبار ڈھاکہ منتقل کرنے والو آنکھیں کھولو بنگلہ دیشی قومیت کے حامل پاکستان کے وفاداروں کو پھانسیاں دی جا سکتی ہیں تو تمہارے ’’ کاروبار‘‘ کس قدر محفوظ ہوں گے؟

Archives