’’سیاسی ہجرتیں اور ماورائے عدالت قتل‘‘

’’سیاسی ہجرتیں اور ماورائے عدالت قتل‘‘

شکیل احمد ترابی

وہ پیپلزپارٹی کا کم اور اپنے چچا اسلم کائرہ کی جماعت کا راہنما زیادہ لگتا ہے ۔ دھیمے پن کے ساتھ خوش گُفتاری بھی اُس کے مزاج کا حصہ ہے ۔ ایک عشرے سے اُس کو بُہت قریب سے جانا اور پرکھا‘ سیاست کی بے رحم شاہرائوں سے گزرنے کے لیے وہ بھی ’’ مروجہ طریقے ‘‘ اختیار کرتا ہے ۔ مگراپنی پاکی بیان کرتے وقت وہ دوسروں پر کیچڑ اُچھالنے سے احتراز برتتا ہے ۔’’ اُن مجلسوں ‘‘ میں شرکت کے سوا ظاہراً ہمیں لالہ مُوسیٰ کے قمر الزمان کائرہ میں کوئی بُرائی نظر نہیں آتی ۔
’’مداری ‘‘ شیخ الاسلام ‘اسلام آباد تشریف لائے تو اُن کی بے ہُودہ بڑھکوں نے دھیمے کائرہ کی شخصیت کو بھی مضطرب کردیا ۔ اپنی روایت کے برعکس اُنہوں نے بھی بھری پریس کانفرنس میں ’’ مداری ‘‘ کی نقل اُتار دی ۔
میمو سیکنڈل اور ٹھیکیدار ریاض کے مقدمے میں جناب کائرہ کے ’’ باس‘‘ کی نوازشات کے نتیجے میں وکیل زاہد بخاری نے کروڑوں روپے کمائے ۔ زاہد بخاری کی نور نظر عظمیٰ بخاری اور اس کے آٹھ ساتھیوں کو اسمبلیوں کی تحلیل سے چند دن قبل اچانک ’’ پیپلزپارٹی میں کوڑھ‘‘ کے مرض کا انکشاف ہوا ۔ شفاء یابی کے لیے وہ جناب نواز شریف کی مسلم لیگ میں شامل ہو گئے ۔
نجی چینل کے پروگرام کے میزبان نے ’’ مریضوں کے دوسرے شفاء خانے ‘‘ منتقلی پر ردعمل جاننا چاہا تو بلا کا دھیماقمر زمان جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور سخت باتیں کر گیا ۔
عظمیٰ کی ’’ عظمت ا ور عزیمت‘‘ کا غصہ جناب کائرہ نے منصف اعظم پر بھی نکال دیا۔ اورکہا کہ دُہری شہریت پر ناروا تبصرے کرکے جناب افتخار محمد چودھری نے لاکھوں تارکین وطن پاکستانیوں کے دلوں پر چُھریاں چلائیں۔وہ بھول گئے کے افتخار محمد چودھری نے تو انتخابات میں تارکین وطن کی آرائ(ووٹ) شامل کرنے تک کی بات کی ہے۔
رحم اور حقائق ’’ سیاسی اجسام ‘‘ سے رُخصت اور مفادات ، جھوٹ اور منافقت خون میں شامل ہو گئی ہے ۔
بڑے مفاداتی گروہوں ( مقتدر سیاسی جماعتوں ) کے قائدین کو اپنا گھونسلہ صاف وشفاف اور دوسرے کا انتہائی غلیظ نظر آرہا ہے۔
بڑی معذرت کے ’’ اُس بازار‘‘ میں اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ناچنے یا جسم فروشی کرنے والی سے تو ہم نفرت کرتے ہیںمگر میرے سمیت سب اپنے ارد گرد موجود ’’ شرفا‘‘ جو کبھی ایک کوٹھے پر ناچتے ہیں کبھی دوسرے پر ، اُن سے مل کر تو ہمیںکوئی ’’ کراہت‘‘ تک محسوس نہیں ہوتی ۔
کھوسے کا بیٹا سیف الدین کھوسہ پیپلزپارٹی میں شامل ہو جاتا ہے تو بڈھے کھوسے سے لے کر جناب شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے ماتھے پر بل ہی نہیں زبان پر بھی تُرشی آجاتی ہے ۔ ’’ ہجرت ‘‘ کی برکات سے مخدوم احمد محمود استفادہ کرکے گورنر بن بیٹھتے ہیں تو مسلم لیگ نواز کے رہنما پیشین گوئی کرتے ہیں کہ احمد محمود کے بیٹوں کی پیپلزپارٹی میں شمولیت اس بات کا عندیہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں دھاندلی ہو گی ۔ظفرعلی شاہ سندھ اور خیبر پخونخوا کا سیاسی مسافر خواجہ ہوتی ایک سال میں تین پارٹیاں تبدیل کرتا ہے تو پرویز رشید کے ماتھے پر بل نہیں پڑتا۔
خزاں کے موسم میں ’’ گھٹن ‘‘ کا شکار پرندے ’’ بہار‘‘ کی تلاش میں ٹہنیاں تبدیل کرنے کی اُچھل کود میں مصروف ہیں ۔ مشرف کی گملا پارٹی مسلم لیگ’’ق‘‘ سندھ کے صدر سابق وفاقی وزیر غوث بخش مہر نے مسلم لیگ فنکشنل میں شامل ہو کر ’’ نئے پگاڑا صاحب‘‘ کو مخدوم احمد محمود کی بے وفائی سے لگنے والوں زخموں پرمرہم رکھنے کی کوشش کی ۔
مہر کی ’’دریا دلی‘‘ دیکھ کر میرا ایک اور خوش گفتار بھائی سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی ’’ بہاولپور صوبے ‘‘ کی بحالی کی تحریک کوکامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے ایک نیا سیاسی سفر شروع کر کے ’’ پیر صاحب‘‘ کا ’’ مرید‘‘ بن گیاہے ۔
امریکہ بہادر خطے سے نکلتے ہوئے کھربوں روپے کا سامان ’’ پاکستانی قُلیوں ‘‘ کے ذریعے بحفاظت نکالنے میں مصروف ہے ۔ امریکی سپاہیوں کے زیر استعمال ’’ غلیظ پیمپرز ‘‘ ہماری اُجرت ہوں گے۔ ہماری ’’ اشرافیہ‘‘ چوہدری کا میراثی اور اُجرتی قاتل بن کر اپنے ہی نونہالوں کو تہہ تیغ کر کے پُھولے نہیں سما رہی۔
میاں نواز شریف پیپلزپارٹی کے گڑھ نوڈیرو میں ’’ مزار شہداء ‘‘ سے چند گز کے فاصلے پر پوری گرج برس کے ساتھ ملک میں آئین کے نفاذ اور سرکاری ونجی ڈاکوئوں سے قوم کی جان چھڑانے کی بات کرتے ہیں ۔ دو درجن سے زائد جماعتیں بظاہر اے این پی اور درپردہ ’’ کسی اور‘‘ کی شہ پر اسلام آباد کے پنچ ستارے ہوٹل میں بیٹھ کر ملک میں ’’ امن‘‘ کے قیام کے لیے طالبان سے مذاکرات کا ’’ متفقہ ‘‘ اعلامیہ جاری کرتی ہیں ۔ اعلامیہ کی منظوری کو چند گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ ہمارے خفیہ اداروں نے ایلیٹ (ELITTE) نہیں (EDIOT) ُفورس کے ذریعے کسی درہ آدم میں نہیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹائون میں رات ساڑھے گیارہ بجے ملک رحمت کے گھر داخل ہو کر اُس کے بیٹوں ملک جمشید اور ملک غلام سجاد کو اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کردیا ۔ ملک رحمت کے بقول فورس کی اپنی گولیوں کا نشانہ بن کر ایلیٹ فورس کا اے ایس آئی نعیم حسن جاں بحق اور کانسٹیبل اسد زخمی ہو گیا ۔ اہل محلہ کے مطابق پولیس مقابلہ نام کا کوئی واقعہ سرزد ہی نہیں ہوا۔ راولپنڈی پولیس کے انچارج ا ور تھانہ نیو ٹائون کے انسپکٹر وقوعہ کے بعد موقع پر پہنچے ۔ ہر دو ذمہ داران نے وقوعہ سے متعلق لاعلمی کی وجہ سے ذرائع ابلاغ سے بات چیت سے انکار کردیا۔
مگردوسرے دن جب شہداء کے ورثاء نے لاشوں کے حصول کے بعد راولپنڈی کی مرکزی شاہراہ پر دھرنا دیا تو پولیس نے پینترا بدلا اور کہا کہ دونوں بھائیوں کی سرگرمیاں مشکوک و ملک دشمن تھیں ۔ ایک پولیس ذمہ دار نے محلہ داروں کو یہ بھی بتایا کہ دونوں بھائی ’’ طالبان ‘‘ کے لیے چند جمع کرتے تھے۔ ملک جمشید کیمیکل انجنیئر اور ’’ گولڈ میڈلسٹ‘‘ اور تیل کی ایک کمپنی میں ملازم تھے۔ شہید کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جبکہ غلام سجاد کی صرف آٹھ ماہ قبل شادی ہوئی تھی ۔ ملک رحمت علاقے میں انتہائی اہم اور شریف النفس شخصیت کے طورپر جانے جاتے ہیں ۔ اُن کا ایک اور بیٹا ملک شمشیر متعلقہ یونین کونسل میں دو بار کونسلر منتخب ہوا ۔ ملک رحمت نے کہا کہ میرے گھر قیامت ٹوٹ چکی ہے ، مجھے کون انصاف دے گا؟ میرے بیٹے کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر پولیس کے دعویٰ میں صداقت ہے کہ میرے بیٹے غیر قانونی اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھے تو اُنہیں قانون کے کٹہرے میں لا کر سزا دی جاتی ۔
محترم میاں محمد نواز شریف صاحب ہم آپ کی نیت پر شک نہیں کرتے مگر حضور والا ! آپ کی تندو تیز تقاریر ، دعوئوں اور چھوٹے میاں صاحب کی گلوکاری و فنکاری سے تو نظام نہیں بدلے گا۔
جناب زرداری ، میاں نواز شریف ، سپاہ کے چیف جنرل کیانی اور امن کے نئے علمبردار جناب اسفند یار،کیا ملک رحمت کے بیٹے آپ کے بیٹوں سے کم اہم وقیمتی ہیں ؟ اپنے سینوں پر ہاتھ رکھ کر ذرہ خود سوچئے کہ آپ میں سے کسی کا کوئی بیٹا اس بے دردی و بے رحمی سے مارا جاتا تو آپ کیا ایسے اداکاری و جعلسازی ہی سے کام لیتے؟
’’سیاسی مہاجروں‘‘کے گھونسلے بھی ماضی ہی کی طرح تبدیل ہو رہے ہیں اور ماورائے عدالت قتل بھی اُسی طرح جاری ہیں ۔
تو اے اہل اقتدار !

تم  بدلے نہ ہم  بدلے نہ دل کی آرزو  بدلی
میں  کیسے  اعتبار  انقلاب  آسماں کرلوں

Archives