سازشی کون ؟

سازشی کون ؟

شکیل احمد ترابی

خُدا اُس کی قبر نور سے بھر دے ۔ وہ بڑا دانشور تھا نہ شاعر ، عام سا دیہاتی ، کشمیری مہاجرین کی ایک تنظیم کا سربراہ ۔ 18 سال بیت گئے جب میں کشمیر پریس کلب کا صدر مُنتخب ہوا تو اُس نے یہ شعر میرے مخالف گروپ جِس کا وہ ہمیشہ حلیف رہا تھا سے متعلق پڑھا تھا ۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ جناب زبیر زخمی نے یہ شعر پاکستان کی آج کی صورتِ حال سے متعلق پڑھا تھا کہ :۔

جو میرے لئے تیار ہوئی اُس سازش میں ، میں شامل تھا
الزام کسِی    پر   کیا   دھرنا ، میں   آپ ہی   اپنا قاتل تھا

اگر پیپلز پارٹی جمہوری سیاسی جماعت ہوتی تو محترمہ بے نظیر کے قتل کے بعد قبضہ گروپ نہیں ، پارٹی میں موجود چند وضع دار شخصیات میں سے ایک رضا ربانی تھے جو اِس کی کمان سنبھال سکتے تھے ۔ پیپلز پارٹی کے اقتدار کایہ پانچواں دور ہے جو پہلی بار پانچ سال مکمل کرنے کو ہے ۔کِسی بنگلہ دیش طرزیا کچھ ٹیکنو کریٹس پر مشتمل نگران حکومت کیباتیں چل رہی تھیں۔زیادہ شور میرے قلم قبیلے کے لوگ مچا رہے تھے ، مگر گزشتہ دِنوں جناب رضا ربانی نے دو تین سال کے لئے ٹیکنو کریٹس پر مشتمل نگران حکومت کی سازش کی بات کر کے بڑے بڑے پیشین گوؤں اور تجزیہ نگاروں کو پریشان کر دیا ہے ۔ فوج کے سپہ سالار ، فوج کے ترجمان ، منصف اعلیٰ اور وزیر اعظم ، کسِی ڈرامے کے کردار نہیں سَچ مُچ میں پاکستان کے وزیر اعظم جناب پرویز اشرف کہہ چکے ہیں کہ تمام ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہیں ۔ جمہوریت کی گاڑی کو کوئی پٹری سے اُتار سکتا ہے اور نہ کوئی انتخابات ملتوی کر سکتا ہے ۔ اتنی بااثر شخصیات کے اطمینان بخش اعلانات کے باوجود نہ جانے جناب رضا ربانی کو کیا سوجھی کے ایسا ہوش ربا بیان داغ دیا ؟
کیا یہ کوئی انجانا خوف ہے جس کی بنا پر فسانہ گھڑ لیا گیا ہے یا کوئی حقیقت ؟ اور حقیقت ہے تو سازشی کون ؟ جناب ربانی کوئی بُزدل رہنما نہیں، وہ آگے بڑھیں اور سازشی کوطشت ازبام کریں ۔ وگرنہ یہ ہی سمجھا جائے گا کہ وہ بھی جناب رحمان ملک کے بڑے بھائی ہیں ۔ جنہوںنے فرمایا کہ دہشت گردی روکی نہ گئی تو کراچی ہمارے ہاتھ سے نِکل جائے گا ۔ اور ایجنسیاں برابر کی شریک ہوں گی ۔ یقیناً اُن کی مُراد نیوز ایجنسیوں سے نہیں ہے ۔ ملک کے دفاع اور خفیہ ایجنسیوں سے ہے ۔ تو محترم وزیر داخلہ صاحب آپ یہ شکایت کِس سے فرما رہے ہیں ۔ پانچویں بار خُدا نے آپ کی پارٹی کو موقع دیا تھا ۔ اب تو ہم از خود آپ کے ’’ صاحب ‘‘ کے ہاں نہیں جاتے ۔ جنہیں یار لوگ کہتے ہیں کہ بہت دانا و بینا ، تنے رسے پرکھڑے ہوکے جنہوں نے نظام چلایا ، جی ہاں ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ دانا و بینا اور بہادر ’’ صاحب ‘‘ سے جب کسی اقدام سے متعلق پوچھا جاتا کہ آپ نے کیسے کر دیا تو اپنے شانوں کی جانب اشارہ کر کے فرماتے ( اشارے سے مُراد فوجیوں کے سٹارز تھے) کہ ’’ انہوں ‘‘ نے یہ کام کروایا ۔ دیہاتی خاتون منے کے ابو یا ’’ انہوں ‘‘ نے کہہ کر خاوند کا حوالہ دیتی

ہے کہ مصداق جناب رضا ربانی بھی اپنے ’’ صاحب ‘‘ کے ’’ انہوں ‘‘ کا نام کیوںنہیں لیتے جو ٹیکنو کریٹس کو لانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ بہت واضح بات ہے کہ جمہوری نظام کو پٹڑی سے اتارنے والا ایک طاقتور ملک ہو سکتا ہے ’’امریکا بہادر ‘‘ جس کے نقشوں میں بہترین رنگ آمر بھرتے ہیں ۔ امریکا اپنی فوج پاکستان میں داخل کرنے سے تو رہا ۔ کیا کوئی تازہ دم فوجی امریکیوں کے ارمان پورے کرنے کے لئے طنابیں کس رہا ہے ؟ اگر ایسے شواہد موجود ہیں تو بلوچ قبیلے کے فرزند ارجمند ’’ صاحب ‘‘ خود باہر نکل کر سازش کو بے نقاب کیوں نہیں کرتے ؟ بخاریوں سے خطوط اورربانیوں سے خدشات کا اظہارکیوں کرارہے ہیں؟
سچ یہ ہے کہ دولت کی ہوس اور اقتدار کا لالچ انسان کو کمزور بنا دیتا ہے وہ مصلحت کیش بن جاتا ہے ۔
ویسے بھی دھرتی پاکستان پر بسنے والوں کو ترکوں کی طرح کوئی طیب اردگان اور عبد ا ﷲ گل مُیسر نہیں ۔ جنہوں نے ایک صد سے زائد حاضر و ریٹائرڈ فوجیوں جن میں نامی گرامی جرنیل شامل تھے کو جیلوں میں ڈال کر کم از کم تین فوجی بغاوتوں کو کچلا ۔ یہ کارنامہ تو طیب اردگان ہی انجام دے سکتا تھا جس نے 2002 ء میں اقتدار سنبھالا تو ترکی کے رہنے والوں کی فی کس آمدن 3311 امریکی ڈالر تھی ۔ طیب اردگان 2011 ء میں تیسری بار انتخاب کے لیے میدان میں اُترے توفی کس آمدن 10 ہزار امریکی ڈالر پر لے گئے ۔ اِسی موقع پر اَنہوں نے اِس عزم کا اظہار کیا کہ2023ء میں جب ترک جمہوریہ کی ایک صدی مکمل ہوگی تو وہ فی کس آمدن 25 ہزار امریکی ڈالر تک لے جائیں گے ۔
اقبال نے کہا تھا کہ

کوئی قابل   ہو تو   ہم شان   کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دُنیا بھی نئی دیتے ہیں

ترک وزیراعظم 2011-13 ء دو سالوں میں پانچ ہزار کا مزید اضافہ کرکے فی کس آمدن کو 15 ہزار امریکی ڈالر تک لے گئے ہیں ۔ اور عالمی معاشی اعدادو شمار کے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ 2013 ء کے اختتام تک یہ اضافہ 19 ہزار ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ طیب نے اپنا طرز رہن بدلا نہ ذاتی اکاؤنٹس بڑھائے اور مُلک کو دنیا کے چھٹے معیشت بہتر کرنے والے ملکوں کی فہرست میں لے گئے۔
ہمارے ’’ شیر بہادر ‘‘ کو خُدا نے موقع دیا تھا کہ اب کی بار وہ اس مفلوک الحال قوم کی بہتری کے لیے کچھ کرتا تو تاریخ میں نام بنا سکتا تھا مگر دُنیا کی محبت نے اسے اس قدر اپنا اسیر بنالیا ہے کہ اب کی بار اُسی کے صرف ایک کارندے نے 80 ارب روپے کی بددیانتی کرکے ملک پاکستان کی ’’توقیر وصداقت ‘‘ دنیا بھر میں قائم کردی ۔ مستقبل قریب کی سازشوں کے شور شرابے میںسابق چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز کی تصنیف’’ یہ خاموشی کہاں تک ‘‘ نے ملک میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے ۔
جنرل شاہد عزیز لکھتے ہیں۔
فوجی زندگی کے آخری موڑ پر،قانون توڑکرکسی اورکا ساتھ دیااورسب کچھ بدل گیا۔پاکستان کا مطلب بھی،ہماری پہچان بھی،قوم کی تقدیربھی،قبلہ بھی لیکن جو بدلناچاہاتھا،جوں کاتوںہی رہابلکہ اوربگڑگیا۔ایک چمکتے خواب کو حقیقت میں بدلتے بدلتے اس میں اندھیرے گھول دئے۔
ایک اور جگہ وہ یوں رقمطراز ہیں۔
کورس کے لیے امریکہ گے،امریکی فوجی افسرنے پیشکش کی اسی رینک اورسروس کے ساتھ امریکی فوج میں شامل ہو جاو،انکارکردیا۔دوسرے کورس میں پیشکش ایک بار پھر ٹھکرادی،کہاگیا پاکستانی فوج میں رہ کر ہی ہمارے لیے کام کرو۔

انکار کردیا۔یہ عنایت مجھ پر ہی نہیں،سب کو ہی دانہ ڈالتے،کہیں کامیاب بھی ہوتے ہوںگے۔
ایک اہم بات جنرل صاحب نے تحریر کی کہ امریکہ میں کورس کے اختتام پر پیرو کے ایک افسر نے فری میسن تنظیم میں شامل ہونے کی پیشکش کی۔ اس سے بچ نکلا،کئی سالوں بعد مشرف کے جال میں پھنس کرپاکستان میں وہی کیا جو دشمن چاہتے تھے۔فوجی اورسیاسی حکمران ہمیشہ امریکی اشاروں پرناچتے ہیں۔بظاہر یہ شاہد عزیز کا ’’اعتراف گناہ‘‘ ہے مگر درحقیقت اس طرح کے اعترافات کو بعد از خرابی بسیار ہم نے بہت سے مقتدر افراد کے مُنہ سے سنا ہے ۔ ہمارے ایک اور انتہائی شفیق اور ملنسار جنرل صاحب جو ایک اہم فوجی پوسٹ پر تعینارت رہے نے ایک بار ایک نجی مجلس میں فرمایا کہ جب مشرف نے نومبر 2007 ء میں چیف جسٹس کو دوبارہ معطل کرکے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تو میں نے اُن کو اس اقدام سے باز رکھنے کے لیے بہت کوشش کیں۔ مگر مشرف ٹلنے والا نہیں تھا اور ایسا کر گزرا ۔جنرل صاحب فرماتے ہیں کہ اُس موقع پر مجھے خیال آیا کہ میں عہدے سے استعفیٰ دوں اور پریس کانفرنس کرکے مشرف سے برأت کا اعلان کردوں ۔ بیگم سے تذکرہ کیا تو کہنے لگیں ، ریٹائرمنٹ کے قریب ’’ کالے بکسے ‘‘ اٹھاکر کہاں خوار ہوںگے۔ میں نے جب یہ بات سنی تھی تو کہا تھا جنرل صاحب ایسا کر گزرتے تو کالے بکسے ہی کیا ، قوم اُن کو اپنے کندھوں اور سر آنکھوں پر بٹھاتی مگر بڑی معذرت سے عرض ہے کہ ایسا حوصلہ ہمارے جرنیلوں میں خال خال ہے ۔
جنرل شاہد عزیز کی کتاب اور ایک ٹی وی انٹرویو پر ردعمل میں جنرل مشرف نے انتہائی پست اندازاختیار کیا جس سے لگتا ہے اُن کی عقل ابھی بھی ٹھکانے نہیں لگی ۔ مشرف کوسن کر چند لمحوں کے لیے لگا کہ جیسے ہم اپنی سپاہ کے سابق چیف اور ملک کے صدرنہیں نجی ٹی وی پرچلنے والے بھانڈوںکے کسی پروگرام کو دیکھ رہے ہیں ۔ جناب مشرف نے کہا کہ جنرل شاہد عزیز غیر متوازن ، چرسی اور شرابی تھا۔ اب داڑھی رکھ کر ایسے ہی اول فول مارتا ہے میں نے ایک انڈین چینل پر پاکستان کا مقدمہ شاندار طریقے سے جیتا ہے ۔شاہد عزیزنے اُس کے بعدکسی دشمن کوخوش کرنے کے لیے سب کچھ کیا ہے ۔ جناب پرویز مشرف آپ نے شاہد عزیز کوچرسی اور شرابی قراردیا۔ ہم شاہد عزیزکی پاکی بیان نہیں کرتے۔ آپ اپنے طرز تکلم کا جائزہ لیں، سوشل میڈیا پر بیٹی سے کم عمر کی لڑکیوں کے جھرمٹ میں شراب و شباب کی مجلسوں ں میں گانے اور’’ بجانے ‘‘ کی آپ کی تصاویرکس بات کا پتہ دیتی ہیں؟ لگتا ہے آپ کے مقدر میں گناہ کی معافی بھی نہیں۔ آپ کی غلامانہ اور گھٹیا سوچ نے پاکستان کو بمستان بنا کر رکھ دیا ہے ۔مگر آپ سے گزارش ہے کہ ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کے بعد تو خُدارا چُپ ہو جائیں۔
ہم جب فوج میں اصلاح احوال کی بات کرتے ہیں تو بعض ’’ مہربان ‘‘ ہمیں فوج مخالف ہونے کا طعنہ دیتے ہیں ۔ جنرل شاہد عزیز جیسے درد دل اور اپنی سپاہ سے محبت کرنے والے کو تو کوئی ’’ دشمن کا ایجنٹ‘‘ نہیںکہہ سکے گا؟۔ ضرورت اس بات کی ہے۔ شاہد عزیز جیسے جنرلوں کو وعدہ معاف گواہ بناکر ’’ مرتکبین ‘‘ کو پھانسی پر لٹکایا جائے ۔اس سے نہ صرف ہماری سپاہ کی عزت و توقیر بڑھے گی بلکہ پاکستان کی بھی دُنیا میں نیک نامی ہوگی۔ اگر ہم ایسا نہ کرسکے خاکم بدھن ہم دُنیا کے نقشے سے مٹا دئیے جائیں گے۔

Archives