کراچی(ثناء نیوز) اگر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ختم ہوئی تو پاکستان کی سلامتی کی خطرات لاحق ہو جائیں گے،کشمیر قوم کا مسئلہ ہے اس پر تمام جماعتوں کے اتفاق سے قومی پالیسی تشکیل دی جائے ،بھارت کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے اس کے خلاف بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کیلئے عالمی سطح پر سفارتی مہم چلائی جائے اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ ،سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اداروں میں اٹھایا جائے ۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے جماعت اسلامی کراچی کے تحت ادارہ نور حق میں’’ کشمیر پر یوٹرن مستقبل کے امکانات ‘‘کے موضوع پر ہونے والی آ پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کانفرنس کی صدارت جماعت اسلامی سندھ کے امیر اسد اللہ بھٹو نے کی۔جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی مہمان خصوصی تھے۔کانفرنس سے مسلم لیگ ن کے رہنما سندھ ضیاء،پاکستان مسلم کے میر نواز خان مروت ،امیر جماعت اسلامی کراچی محمد حسین محنتی،نائب امیر جماعت اسلامی برجیس احمد،جمعیت علماء پاکستان کے صدیق راٹھور،این پی پی کے سید ضیاء عباس،آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے سردار محمد عبدالعزیز،جمعیت علماء اسلام کے محمد اسلم غوری،جمعیت العلماء جموں کشمیر کے محمد جہانگیر صدیقی،جماعت اسلامی کشمیر کے عبدالمجید خان،جموں و کشمیر پیپلز پارٹی سردار نزاکت،پاکستان مسلم لیگ (قیوم گروپ ) کے خان امان اللہ خان،پاکستان عوامی تحریک کے خان محمد بلوچ،پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے چوہدری امیر حیدر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے رہنما مسلم پرویز نے ایک قرار داد بھی پیش کی ۔اسد اللہ بھٹو نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کی قرار داد کو پس پشت ڈال کر آبی جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے جس سے پاکستان کی معیشت تباہ ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر سے پاکستان کا صرف جغرافیائی نظریاتی اور مذہبی تعلق ہی نہیں بلکہ معاشی تعلق بھی ہے کیونک پاکستان کے تمام دریا کشمیر سے ہو کر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 64سالوں سے کشمیری پاکستانیوں سے ملنے کیلئے مضطرب ہیں،مشرف کی پالیسیاں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر قوم کا مسئلہ ہے اس پر تمام جماعتوں کے اتفاق سے قومی پالیسی تشکیل دی جائے اور قوم کو اعتماد میں لیا جائے ۔انہوںنے کہا کہ آج کشمیری ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں بھارت کے خلاف بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کیلئے عالمی سطح پر سفارتی مہم چلانے کی ضرورت ہے یہ پاکستان کی بقاء کی جنگ ہے حکمران اس مسئلے کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور دیگر عالمی پلیٹ فارم پر اٹھائے ۔انہوںنے کہا کہ کشمیری تنہا نہیں ہیں پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے۔عبدالرشید ترابی نے کہا کہ پرویز مشرف کی یوٹرن پالیسی نے کشمیر کاز کو بے حد نقصان پہنچایا ہے،کشمیریوں نے اپنی جدوجہد کے ذریعے اس مسئلے کو زندہ کیا ہے ۔انوہں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کی داستانیں رقم کی ہیں ،10ہزار خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی گئی،بھارتی ظلم و تشدد کا ہدف یہ تھا کہ کشمیری اپنی مذاحمت بند کر دیں مگر بھارتی مظالم اور پاکستانی حکومت کی سرد مہری کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد آج بھی جاری ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی قوت بننا بھی تحریک آزادی کشمیر کا مرہون منت ہے۔انہوں نے کہاکہ آج پاکستان کی ابتر داخلی صورتحال مکافات عمل ہے اگر اتنے جوان کشمیر میں کام آتے تو کشمیر کب کا آزاد ہو چکا ہوتا ۔دوسال گزرنے کے باوجود کشمیر پر دہی پالیسی جاری ہے جو مشرف نے بنائی تھی۔انہوں نے کہاکہ ایک مرتبہ پھر قائد اعظم کی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔سلیم ضیاء نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان نامکمل ہے پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں کشمیر کاز کو جسطرح نقصان پہنچایا اس کی مثال نہیں ملتی۔کشمیر کاز کو ہر فورم پر اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مغرب پر انحصار کرنے کے بجائے اپنا کیس خود لڑنا ہوگا اس وقت پوری قوم کی نظریں کشمیریوں کی جدوجہد پر لگی ہوئی ہیں۔ محمد حسین محنتی نے کہا کہ5فروری کو صرف پاکستان نہیں پوری دنیا میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے،کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں اس پر ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کشمیر کو تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا قرار دیا جاتا رہا مگر مشرف نے کشمیر پر یوٹرن لے لیا۔ استصواب رائے کے بغیر کسی آپشن کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ میر نواز خان مروت نے کہا کہ ہندوستان ابھی تک آنکھیں دکھارہا ہے۔7لاکھ ہندوستانی فوج آج بھی کشمیر میں موجود ہے جرات مند قیادت کی ضرورت ہے اب تو اقوام متحدہ میں بھی کشمیر کا ذکرنہیں ہوتا،پاکستان کی معذرت خواہانہ پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کو شہ ملتی ہے عالمی سطح پر بھی حکمرانوں نے اقدامات نہیں اٹھائے ہیں کشمیر کوطاق نسیان انہوں نے کہا کہ کشمیرحاصل کرنے کے لئے بھارت کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ کشمیریوں نے اپنا حق ادا کردیا اب ہمیں اپنا حق ادا کرنا ہوگا،کشمیر کمیٹی نے صرف سیرسپاٹا کیا۔صدیق راٹھورنے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے کشمیریوں نے آزادی کے لئے گراںقدر قربانیاں دی ہیں، اقوام متحدہ نے کشمیر کے مسئلے پرمنظور کی جانے والی قرار داد کو فراموش کردیا۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرنی چاہئے۔ حکومت کشمیریوں کی جدوجہد میں عملی شرکت کریں۔ سید ضیا عباس نے کہا کہ بھارت کی عیاریوں اور مکاریوں کی وجہ سے کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں بن سکا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت بھارت کے خلاف مضبوط دفاعی حصار ہے مگر بھارت کے آرمی چیف دھمکیاں دے رہے ہیں۔ سردار محمد عبدالعزیز نے کہا کہ کشمیر صرف کشمیروں کانہیں بلکہ یہ عالم اسلام کا ہے اگرکشمیر کی تحریک ختم ہوئی تو پاکستان کی سلامتی کوخطرات لاحق ہوجائیں گے۔ وہ قبائلی جو پاکستان کی سرحدوں کے محافظ تھے ان کے خلاف آج آپریشن کیا جارہا ہے۔ آج بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ امریکا کے اشارے پر اسرائیل اور بھارت کررہا ہے،مضبوط پاکستان کشمیر کی آزادی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ اسلم غوری نے کہا کہ مجاہدین نے اپنی جدوجہد کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر متعارف کروایا مگر آج انہی مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے۔حکمرانوں نے کشمیر کی آزادی کے لئے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر آزاد کرانے کے بجائے سرحد اور بلوچستان میں فوج کو الجھادیا گیا ہے ۔محمد جہانگیر خان صدیقی نے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں کی پالیسیوں کی وجہ سے کشمیری مایوسی کا شکار ہیں۔ گلگت بلتستان کو صوبہ بناکر سامراجی عزائم کی تکمیل کی گئی ہے کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کے امنگوں کے مطابق ہی حل ہونا چاہئے حکمران عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اٹھائیں۔عبدالحمید نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو ابتداء ہی میں ختم ہوجانا چاہئے تھا مگر بھارت کی سازشوں کی وجہ سے کشمیر آج بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑاہوا ہے حکومت نے کشمیریوں اور ان کی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ فوج کی ذمہ داری ہے کہ اس نے کشمیر کا زکو جو نقصان پہنچایا ہے اس کا ازالہ کرے۔ سردار نزاکت نے کہا کہ کشمیر میں ابتداء ہی سے انسانی حقوق کی پامالی کی جارہی ہے مشرف نے کشمیر کا ز کو جس قدر نقصان پہنچایا اس کی مثال نہیں ملتی، کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ رہناچاہتے ہیں جموں وکشمیر ناقابل تقسیم وحدت ہے موجودہ حکومت کی کشمیر پالیسی ہم تسلیم نہیں کرتے۔ خان امان اللہ خان نے کہا کہ قائداعظم نے کشمیر کوشہ رگ قرار دیا تھا مگر 65سال گزرنے کے باوجود کشمیریوں پر ظلم ہورہا ہے ایسٹ تیمور کو تو آزادی دلادی گئی مگرکشمیر کی آزادی کے لئے اقوام متحدہ صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلارہی ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سے مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی امید نہیں پاکستان امریکا کی کالونی بنتا جارہا ہے امریکا کے محتاج حکمران عوام کو کچھ نہیں دے سکتے۔چوہدری میرحیدرنے کہا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے کشمیری پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں جب تک ایک کشمیری بھی زندہ ہے کسی کو کشمیر کا سودا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ خان محمد بلوچ نے کہا کہ غلام ممالک میں ہر مسئلہ سیاسی بن جاتا ہے اقوام متحدہ کا قانون غلام ممالک کا استحصال کررہا ہے بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں اُڑارہا ہے مگر اقوام متحدہ خاموش ہے۔#
Post a comment