وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ سے مل کر آگے بڑھیں گے۔ راجہ فاروق حیدر

اسلام آباد(ثناء نیوز )وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمدفاروق حیدرخان اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کی کوتائیوں کوبھلاکر مل کر آگے بڑھیں گے۔وزیراعظم نے گلگت بلتستان کی نئی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں آزاد کشمیر کی حکومتوں سے جو کوتائیاں ہوئیں اس پر گلگت بلتستان جاکر گلگت بلتستان کے عوام سے معافی مانگوں گا۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگوں کی منزل اور مقاصد ایک ہی ہیں۔الحاق پاکستان تک کشمیریوں کی جدوجہد جاری رہے گی۔راجہ محمد فاروق حیدر خان نے آزا دکشمیر یونیورسٹی ،انجینئرنگ یونیورسٹی ،کیڈیٹ کالجوں اور دیگر پروفیشنل کالجوں میں گلگت بلتستان کے طلبا کے داخلے ،ہائیڈل پاور ،سیاحت ، سروس س۔۔۔۔۔۔۔ٹریکچر سمیت تمام شعبوں میں گلگت بلتستان کی نئی حکومت کو تعاون کی پیکش کی ہے ۔یہ فیصلے پیر کے روزیہاں کشمیر ہاؤس اسلام آبا دمیں وزیراعظم آزاد جموںوکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ کے درمیان ملاقات میں کیے گئے ۔اس موقع پر آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر شاہ غلام قادر ،سابق وزیراعظم ومسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان آزاد کشمیر کے وزراء ممبران کشمیر کونسل اور گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران نے بھی شرکت کی ۔قبل ازیں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جب کشمیر ہاؤس پہنچے تو وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان،قائم مقام صدر شاہ غلام قادر اور مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے ان کا استقبال کیا۔وزیراعظم نے وزیراعلی سیدمہدی شاہ کو کشمیر ہاؤس آمد پر خوش آمدید کہا اور ان کو وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر ہاؤس آپ کا اپنا گھر ہے جب چائیں تشریف لائیںہم خوش آمدید کہیں گے۔راجہ محمد فاروق حید خان نے گلگت بلتستان کی سیاسی او ر آئینی حقوق کی بحالی پر وزیراعلیٰ اور ممبران اسمبلی اور سیاسی جماعتوں کی قائدین کو مبارک باد دی اور کہا کہ طویل جدو جہد کے بعد گلگت بلتستان کے لوگوں کو حقوق ملے ۔ہمیں خوشی ہے کہ 63سال بعد اس علاقے کا تاریخی نام بحال ہو ا۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں اور حکومت کو بااختیار بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں ان کو بھی مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ آزا دکشمیر کے لوگ اور حکومت گلگت بلتستان کو حقوق دینے کے خلاف ہیں ۔ہمارے تحفظات صرف وزیراعلی اور گورنر کی اصطلاحات پر ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں وزیراعلیٰ او رگورنر کے بجائے صدر اور وزیراعظم کے عہدے رکھے جائیں۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ مجھے پوری امید ہے کہ گلگت بلتستان کی نئی حکومت عوام کے مسائل حل کرے گی اور لوگوں نے ان پرجس اعتماد کا اظہار کیا اس پر پورا اتریں گے۔راجہ محمد فاروق حیدر خان نے گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو حکومت آزادکشمیر کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی او رپیش کش کی کہ آزادکشمیر یونیورسٹی ،انجنئیر کالج،کیڈیٹ کالجوں او ردیگر پر وفیشنل کالجوں مین گلگت بلتستان کے طلباکو معقول کوٹہ دیا جائے گا۔وزیراعظم نے گلگت بلتستان میں ہائیڈل پاور اور سیاحت کی ترقی کے لیے بھی وزیراعلیٰ کو تعاون کی پیکشش کی اور کہا کہ گلگت بلتستان کی نئی حکومت کو پہلی فرصت میں ہائیڈل پالیسی تشکیل دینی چاہیے تاکہ گلگت بلتستان سے بہنے والے پانی سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہو گئی ہے ۔اداروں کے استحکام کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ۔سروس سٹریکچر کو بہتر بنا یا جائے سروس سٹریکچر کی بہتری کے لیے بھی آزاد کشمیر حکومت مکمل تعاون کرے گی ۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری اور آپ کی منرل اور مقاصد ایک ہی ہیں۔الحاق پاکستان ہماری منزل ہے اور اس کے حصول تک جدجہد جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے ۔وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو دورہ آزادکشمیر کی دعوت دی اور کہا کہ وہ 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مظفرآبا دتشریف لائیں۔سارے آزاد کشمیر پر آپ کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا ہمارا حق ہے ۔آزادکشمیر کے لوگ آپ کو خوش آمدید کہیں گے۔راجہ فاروق حیدرخان نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے آزا دکشمیر کی حکومتوں سے کوتائی ہوئی ہے ۔راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ آزادکشمیر کی حکومتوں سے جو کوتائی ہوئی ہے اس پر ہم گلگت بلتستان کے عوام سے معافی مانگتے ہیں اور میں گلگت بلتستان جاکر اس کوتائی پر گلگت بلتستان عوام سے معافی مانگوں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ گلگت ،لداخ،سری نگر او رمظفرآباد کے سارے راستے اسلام آباد کی طرف آتے ہیں۔ہم سب پاکستانی ہیں اور پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی ہیں۔ہم گزشتہ 62سالوں سے پاکستان کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔پاکستان پر ہمار ا حق زیادہ ہے۔راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا کہ حکومت آزادکشمیر مارچ میں میرپور کے اندر ٹورازم کانفرنس منعقد کررہی ہے۔گلگت بلتستان کے لوگوں کو اس کانفرنس میں شرکت کرنا چاہیے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کا شکریہ ادا کیا او رکہا کہ آزادکشمیر کے کسی وزیراعظم نے پہلی مرتبہ دعوت دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر ہمار ا بڑا بھائی ہے ۔بڑھے بھائی سے توقعات بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ہمیں امید ہے کہ آئیند ہ آپ لوگوں سے کوئی شکوہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 63سالوںسے ہم اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کو ہمارے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے تھی ۔ماضی میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا سب کو علم ہے ۔ہم پر مارشل لا ء لگایا گیا ۔کوڑے مارے گے ہم تو سوچ رہے تھے کہ ہم پاکستان کا صوبہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر او رگلگت بلتستان کے درمیان رابطے نہ ہونے کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ہم ایک ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کہ رابطے بحال رہنے چاہیے۔باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ آپ کا نظام پرانا ہے اور آپ کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں ۔ہمیں امید ہے کہ آئیند ہ ہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔وزیراعلیٰ نے دورہ آزاد کشمیر کی دعوت کو قبول کیا اور کہا کہ وہ پہلی فرصت میں آزادکشمیر آئیں گے۔اس موقع پر قائم مقام صدر شاہ غلام قادر نے گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو خوش آمد ید کہا اور کہا کہ آزاد کشمیر کی حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔کمی کوتائیوں کو دور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آئینی اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔پبلک سروس کمیشن سروس سٹریکچر اور عدالتی نظام کو بہتر بنایا جائے ۔اس موقع پر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے سید مہدی شاہ کو خوش آمدید کیا او ر کہا کہ آزاد کشمیر آمد پر گلگت بلتستان کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے کے اقدامات سردار عبدالقیوم خان نے شروع کیے تھے۔ٹنل کے ذریعے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے درمیان زمینی رابطوں کو بھی بحال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی نئی حکومت کو ٹورازم ہائیڈل انوسٹمنٹ پالیسی بنانی چاہیے ۔اور سروس سٹریکچر کو بہتر بنایا جائے

Post a comment

Archives